عربي | English | Türkçe | Indonesia | فارسی | اردو
255 ملاحظات
0 ووٹ
السلام علیکم میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک لڑکی کے ساتھ ریلیشن شپ میں  ایک سال سے ہوں میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں مَیں نے رشتہ بھی بھجوایا تھا اُس لڑکی کے گھر لیکن اس کے والد نے انکار کر دیا کہ ابھی ہم نے اپنی بیٹی کو تعلیم دلوانی ہے اُس کے بعد شادی کرنی ہے ہمارے ریلیشن شپ کی بات پھیل گئی تو اب لڑکی کے گھر والے مجھ سے ناراض ہیں کہتے ہیں تم سے شادی اب نہیں کریں گے تمہاری وجہ سے ہماری بدنامی ہوئی ہے لیکن وہ لڑکی میرے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کرنا چاہتی مجھ سے ہی کرنا چاہتی ہے کُچھ دن پہلے میں نے لڑکی کے ابو سے بات کی  لیکن اس کے گھر والے نہیں مان رہے ہیں میں نوکری بھی لگ گیا ہوں رشتے میں وہ میری كزن ہے
ہمیں زنا کرنے کا ڈر ہے ہم گھر والوں کی خاطر اور اسلام کی خاطر ایک دوسرے سے جدا بھی ہوتے ہیں لیکن ہم سے جدا نہیں ہوا جاتا ہم دونوں اک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں ہم دونوں کو زنا کا ڈر ہے تو کیا ہم دونوں  گھر والوں کی مرضی کے بغیر نکاح کر سکتے ہیں
بذریعہ
120 پوائنٹس

1 إجابة واحدة

0 ووٹ
الجواب حامدا ومصليا

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
آپ کے اس سوال کا مفصل جواب دیا جارہا ہے، جواب سے پہلے کچھ ضروری باتیں سمجھ لیں:

1- سب سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مرد کے لیے نامحرم عورتوں سے بلاضرورت میل جول، گفتگو، ہنسی مذاق اوربے تکلفی کرنا جائز نہیں، نیز یہ عمل سخت فتنہ کاموجب ہے، اس لیے پہلے تو اس گناہ سے فریقین توبہ کریں اور اللہ کے حضور استغفار کے ساتھ اس بات کا عزم کریں کہ دوبارہ  گناہ کا یہ کام نہیں کریں گے۔

2- تجربہ ومشاہدہ کی بات ہے کہ پسند کی شادی میں  عام طور پہ وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجتاً ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اورخاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً  گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے؛ اس لیے مسلمان بچوں اوربچیوں کوچاہیے کہ وہ  اپنے ذمہ کوئی بوجھ اٹھانےکے بجائے اپنےبڑوں پراعتماد کریں،  ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں، ان شاء اللہ اسی میں ان کے لیے خیر بھلائی کا معاملہ ہوگا۔

3- شریعت نے لڑکے، لڑکی کے نکاح کا اختیار والدین کو دے کر انہیں بہت سی نفسیاتی و معاشرتی سی الجھنوں سے بچایا ہے، اس لیے کسی واقعی شرعی مجبوری کے بغیر خاندان کے بڑوں کے موجود ہوتے ہوئے لڑکے یا لڑکی کا از خود آگے بڑھنا خدائی نعمت کی ناقدری ہے، بےشمار واقعات شاہد ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آکر کیے گئے یہ نادانی کے فیصلے بعد کی زندگی کو اجیرن کر ڈالتے ہیں، لہذا والدین کی پسند کے بغیر از خود نکاح کرلینا مناسب نہیں ہے۔

 4- اس ساری تفصیل کے بعد اب آتے ہیں اصل سوال کے جواب کی طرف کہ عاقلہ بالغہ  لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح کفو (نسب، دین داری اور پیشہ وغیرہ میں ہم پلہ لوگوں) میں خود کرے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً و اخلاقاً پسندیدہ نہیں ہے اور تجربہ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ ایسا نکاح دیر پا اور نتیجہ خیز نہیں ہوتا.

لہذا آپ دونوں کا والدین کی رضامندی کے بغیر یوں چھپ کر نکاح کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً سخت ناپسندیدہ عمل ہے، ہماری رائے ہے کہ کسی بھی طرح سے والدین کو راضی کرلیں بصورت دیگر ان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کریں، اپنی اور خاندان کی عزت و شرافت کا پاس رکھیں.
-----------------------------

لما في بدائع الصنائع :

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."
(کتاب النکاح ، فصل ولایة الندب و الاستحباب فی النکاح، 2/ 247، ط : دارالکتب العلمیة)

قال ابن عابدين في الرد :
"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:إن الكفاءة في النكاح تكون في … ست لها بيت بديع قد ضبط
نسب وإسلام كذلك حرفة … حرية وديانة مال فقط."
(کتاب النکاح ، باب الکفاءة، 3/ 86، ط : دارالفکر)

وفي فتح القدیر:
"ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة، لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها، بخلاف جانبها؛ لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش."
(کتاب النکاح ، فصل فی الکفاءة،3/ 293، ط : دارالفکر ۔ لبنان)
فقط و اللہ اعلم
أبو الخير عارف محمود گلگتی کشمیری
5رمضان المبارک 1444ھ
27مارچ 2023م
بذریعہ
300 پوائنٹس
[misc/was_useful]
[misc/was_useful_tell]

متعلقہ سوالات

0 ووٹ
1 جواب 1.2ایک ہزار ملاحظات
ناصر شفقت پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
1.2ایک ہزار ملاحظات
ناصر شفقت پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ ناصر شفقت
120 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 176 ملاحظات
خطاط خلیل کرناٹکی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
176 ملاحظات
خطاط خلیل کرناٹکی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ خطاط خلیل کرناٹکی
120 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 156 ملاحظات
نورعلی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
156 ملاحظات
نورعلی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ نورعلی
120 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 189 ملاحظات
Anas Chohan پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
189 ملاحظات
Anas Chohan پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ Anas Chohan
160 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ عبدالباسط
120 پوائنٹس