اِستِفتاء برائے عدالت سے یکطرفہ خُلع کی ڈِگری اور فسخِ نِکاح کا شرعی حُکم
عربي | English | Türkçe | Indonesia | فارسی | اردو
189 ملاحظات
0 ووٹ
اِستِفتاء برائے خُلع کیس 945/2023

عُنوان : اِستِفتاء برائے عدالت سے یکطرفہ خُلع کی ڈِگری اور فسخِ نِکاح کا شرعی حُکم

السّلام علیکم و رَحمۃُاللّٰہ و برَکاتُہ!

میرا نام انس چوہان ہے۔ میں علاقہ گذدرآباد مارواڑی لائن کراچی کا رہائشی ہوں۔ میرا تعلُق مُسلِم مارواڑی سِلاوٹ جماعت (رجسٹرڈ) جَیسلمَیری کراچی سے ہے۔ میری بِیوی حدیقہ بنتِ مقصود کا تعلق بھی ہماری برادری سے ہی ہے اور میری بِیوی بھی علاقہ گذدرآباد مارواڑی لائن کراچی کی ہی رہائشی ہے۔ 29 اکتوبر 2014ء کو ہماری منگنی ہوئی اور 6 سال بعد یکم جنوری 2021ء کو ہماری شادی ہوئی اور اب شادی کے ڈھائی سال بعد میری بِیوی حدیقہ نے 25 اگست 2023ء کو سِٹی کورٹ کراچی سے خُلع کی ڈگری لی، جس میں میری کوئی رضامندی شامل نہیں۔ اس مُقدمہ کا نمبر 945/2023 ہے۔ مُکمل عدالتی کاروائی، مُدّعِیہ (بیوی) کا دعویٰ، مُدّعاعلَیہ (شوہر) کا جوابِ دعویٰ، جج کا فیصلہ اور خُلع کی ڈگری، عدالت سے تصدیق شُدہ اِس اِستِفتاء کے ساتھ موجود ہے۔ خُلع کی ڈگری لینے کے بعد 4 ستمبر 2023ء کو میری بِیوی اپنا جہیز کا سامان اور مُجھے شادی میں دیا گیا عاریتًا سونا بھی واپس لے چُکی ہے، البتہ میری والدہ نسرین صداقت کا سونا جوکہ عاریتًا میری بِیوی کے پاس موجود ہے وہ سونا واپس کرنے سے اِنکاری ہے جبکہ نہ وہ سونا میری بِیوی کو تحفے میں دیا گیا اور نہ ہی حقِ مہر میں۔

میں (انس چوہان) عدالت میں حاضِر ہوا۔ اپنی بِیوی (حدیقہ) کی جانب سے لگائے گئے تمام اِلزامات کا جواب دیا۔ جج کے فیصلہ کے باوجود نہ ہی میں نے حقِ مہر واپس لیا اور نہ ہی اپنی بِیوی کے خُلع کے مُطالبہ کو قبول کیا اور نہ ہی اپنی بِیوی سے حقِ مہر کی واپسی کا مُطالبہ کیا کیونکہ میں خُلع پر راضی نہیں۔ نِیز میں نے کسی بھی خُلع یا طلاق کے کاغذ یا ڈگری پر دستِخط نہیں کیئے۔ خُلع کیس کے فیصلہ والے دِن یعنِی 25 اگست 2023ء کو بھی میں عدالت میں موجود تھا اور میں نے خُلع دینے یا لینے سے صاف اِنکار کردیا تھا اور نہ ہی میں نے اب تک اپنی بِیوی کو زبانی یا تحریری طلاق دی ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا صِرف جج کے فیصلہ سے خُلع واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ کیا میری بیوی ابھی بھی میرے نِکاح میں ہے؟ یا شرعی اِعتبار سے ہمارا فسخِ نِکاح ہوچکا ہے؟
اگر خُلع اور تنسیخِ نِکاح نہیں ہوئی تو میری بیوی مُجھ سے طلاق یا خُلع لیٔے بغیر یا شرعی طور پر فسخِ نِکاح کروائے بغیر کہیں اور نِکاح کرتی ہے تو شرعًا اس کا کیا حُکم ہے؟
نیز خُلع اور تنسیخِ نِکاح کے لیٔے اِسلامی طریقہ کیا ہے؟ کیا یہ دونوں یعنِی خُلع اور تنسیخِ نِکاح ایک ہی ہیں؟ یا الگ الگ ہیں؟

سائِل : انس چوہان (گذدرآباد، مارواڑی لائن، صدرٹاؤن ساؤتھ کراچی، پاکستان)
فون نمبر : 00923222203174
بذریعہ
160 پوائنٹس

متعلقہ سوالات

0 ووٹ
0جواب 175 ملاحظات
Anas Chohan پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
175 ملاحظات
Anas Chohan پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ Anas Chohan
160 پوائنٹس
0 ووٹ
1 جواب 539 ملاحظات
Mohd Ali پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
539 ملاحظات
Mohd Ali پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ Mohd Ali
120 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 156 ملاحظات
نورعلی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
156 ملاحظات
نورعلی پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ نورعلی
120 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ عبدالباسط
120 پوائنٹس
0 ووٹ
1 جواب 255 ملاحظات
ہاشم پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
255 ملاحظات
ہاشم پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ ہاشم
120 پوائنٹس