موضوع : وقف شدہ زمین میں میراث کا دعویٰ کرنا کیسا ہے؟
عربي | English | Türkçe | Indonesia | فارسی | اردو
175 ملاحظات
0 ووٹ
سوال:
    شہر بلاری میں ایک جگہ 1925ء میں عید گاہ کےلیے سید عبدالسلام مرحوم(ہڈی والے) نے وقف کی تھی۔ الحمد للہ !  تبھی سے اب تک بھی اسی جگہ پرعیدگاہ تعمیر ہے اور ہر عید کی نماز یہیں پر ادا کی جارہی ہے۔ اورعیدگاہ کمیٹی کی انتظامیہ کے پاس تمام تر انتقالات اور کاغذات بھی موجود ہیں۔اَب98سال بعد واقف کا ایک پوتا اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ کر تا ہے‘ اور وہ اپنے حصہ کی رقم طلب کرتے ہوئے وکیل کی جانب سے نوٹس بھی بھیج دیا ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ  کیا شرعاً اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ درست ہے؟  جب کہ واقف کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بھی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔
    امید کہ اس مسئلہ کا جواب کتاب و سنت کی روشنی میں عنایت فرماکر جماعت و جمعیت کے لیے اطمینان کا باعث ہوں گے۔
                                       
                                        والسلام
بذریعہ
120 پوائنٹس

متعلقہ سوالات

0 ووٹ
1 جواب 1.2ایک ہزار ملاحظات
ناصر شفقت پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
1.2ایک ہزار ملاحظات
ناصر شفقت پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ ناصر شفقت
120 پوائنٹس
0 ووٹ
1 جواب 184 ملاحظات
محمد أنس پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
184 ملاحظات
محمد أنس پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ محمد أنس
180 پوائنٹس
0 ووٹ
1 جواب 261 ملاحظات
محمد أنس پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
261 ملاحظات
محمد أنس پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ محمد أنس
180 پوائنٹس
0 ووٹ
0جواب 151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
151 ملاحظات
عبدالباسط پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ عبدالباسط
120 پوائنٹس
0 ووٹ
1 جواب 255 ملاحظات
ہاشم پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
255 ملاحظات
ہاشم پوچھا ^مہینہ ^دن، ^سال
بذریعہ ہاشم
120 پوائنٹس