سوال:
شہر بلاری میں ایک جگہ 1925ء میں عید گاہ کےلیے سید عبدالسلام مرحوم(ہڈی والے) نے وقف کی تھی۔ الحمد للہ ! تبھی سے اب تک بھی اسی جگہ پرعیدگاہ تعمیر ہے اور ہر عید کی نماز یہیں پر ادا کی جارہی ہے۔ اورعیدگاہ کمیٹی کی انتظامیہ کے پاس تمام تر انتقالات اور کاغذات بھی موجود ہیں۔اَب98سال بعد واقف کا ایک پوتا اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ کر تا ہے‘ اور وہ اپنے حصہ کی رقم طلب کرتے ہوئے وکیل کی جانب سے نوٹس بھی بھیج دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ درست ہے؟ جب کہ واقف کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بھی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔
امید کہ اس مسئلہ کا جواب کتاب و سنت کی روشنی میں عنایت فرماکر جماعت و جمعیت کے لیے اطمینان کا باعث ہوں گے۔
والسلام