اِستِفتاء برائے سونے کے زیورات
عُنوان: عدالت سے خُلع کی ڈِگری لینے والی بہو کے لیئے ساس کے سونے کے زیورات کا شرعی حُکم
السّلام علیکم و رَحمۃُ اللّٰہ و برکاتُہ!
میرا نام انس چوہان ہے۔ میں علاقہ گذدرآباد، مارواڑی لائِن، کراچی کا رہائشی ہوں۔ میرا تعلُق مُسلم مارواڑی سِلاوٹ جماعت (رجسٹرڈ) جَیسَلمَیری کراچی سے ہے۔ میری بِیوی حَدِیقہ بنتِ مقصود کا تعلُق بھی ہماری برادری سے ہی ہے اور میری بیوی بھی علاقہ گذدرآباد، مارواڑی لائن، کراچی کی ہی رہائشی ہے۔ میری بِیوی حَدِیقہ نے 25 اگست 2023ء کو سِٹی کورٹ کراچی سے خُلع کی ڈِگری لی، جس میں میری کوئی رضامندی شامل نہیں۔
ہماری برادری مُسلِم مارواڑی سِلاوَٹ جماعت (رجسٹرڈ) جَیسَلمَیری کراچی میں یہ روایت ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریتًا سونے کے زیورات پہنائے جاتے ہیں۔ لڑکی کو ان زیورات کی مالِک نہیں بنائی جاتی بلکہ وہ زیورات لڑکے والوں کی ہی مِلکیت میں رہتے ہیں۔ اِسی طرح لڑکی والوں کی طرف سے بھی لڑکے کو عاریتًا سونا دیا جاتا ہے۔
مَسئلہ یہ ہے کہ میری بِیوی حَدِیقہ اپنے گھر والوں کی طرف سے عاریتًا دیا گیا سونا تو مُجھ سے واپس لے ہی چُکی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ میری والدہ نَسرِین صَداقَت کا سونا جو کہ عاریتًا میری بیوی حَدِیقہ کے پاس موجُود ہے، وہ سونا واپس کرنے سے اِنکاری ہے۔ میری بیوی حَدِیقہ کا کہنا ہے کہ یہ سونا تو میرا گِفٹ اور میرا حَق ہے جبکہ نہ تو ہم نے یہ سونا میری بِیوی کو کبھی گِفٹ کیا اور نہ ہی یہ سونا میں نے اپنی بیوی کو حقِ مہر میں دیا۔ واضح رہے کہ ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ صورتِ حال میں میری بِیوی حَدِیقہ بنتِ مقصود کا میری والدہ نَسرِین صَداقَت کا سونا اپنے پاس رکھنا شرعًا جائِز ہے جبکہ وہ عَدالت سے خُلع کی ڈِگری لے چُکی ہے؟ کیا ہمارا میری بِیوی حَدِیقہ سے سونے کی واپسی کا مُطالبہ دُرست ہے؟ کیا میری بِیوی حَدِیقہ کا سونے کے زیورات واپس کرنے سے اِنکار کرنا دُرست ہے جبکہ وہ اپنا سونا بھی مُجھ سے واپس لے چُکی ہے؟ نِیز ہمارے اِن سونے کے زیورات کا اصل حق دار، وارث اور مالِک باِعتبارِ شریعت کون ہے؟
مُستَفتِی: انس چوہان (گذدرآباد، مارواڑی لائن، صدرٹاؤن ساؤتھ کراچی، پاکستان)
فون نمبر : 00923222203174
ای میل: anas_chohan@hotmail.com